بلوچ لبریشن آرمی بیان 7 جولائی 2019

7 جولائی, 2019

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان آزاد بلوچ نے یو ایس اے ڈپارٹمنٹ آف ٹریژری کی طرف سے بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیموں کی لسٹ میں نامزد کرنے کے ردعمل میں میڈیا کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ ٹرمپ انتظا میہ کی طرف سے بی ایل اے کو صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں نائن الیون کے ردعمل میں جاری کردہ ایگزیکیٹیوآرڈر 13224 کے تحت ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔ اس ایگزیکٹیوآرڈر کا بنیادی مقصد اسلامی شدت پسند تنظیم القاعدہ کی طرف سے امریکہ پر حملے کے بعد عالمی دہشتگردی سے نمنٹنا تھا۔اس صدارتی ایگزیکٹیوآرڈر کے ذریعے افغانستان پر حملے اور طالبان حکومت کو گرانے کے عمل کو سیاسی اور قانونی جواز فراہم کیا گیا اور اسی قانون نے عالمی سطح پر اسلامی شدت پسندی کے خلاف امریکی پالیسیوں کی بنیاد رکھی۔ نائن الیون کے حملوں کے نتیجے میں دوہزار نوسوستتر معصوم لوگ ہلاک ہوگئے تھے اور اس کے بعد شروع ہونے والی جنگ میں افغانستان میں طالبان نے پاکستانی امداد، مستقل پناہ اور ٹریننگ کے باعث تین ہزار سے زائد امریکی اور اسکے اتحادی ممالک کے فوجیوں کو ہلاک کیا۔ افغانستان میں ہونے والی امریکی جانی نقصانات کا براہ راست ذمہ دار پاکستانی ریاست اور اس کی فوج ہے جس کا برملاعتراف خود امریکی سیاست دان اور اعلٰی فوجی افسران کرتے رہے ہیں۔

جنوری 2019 میں شائع ہونے والے مستند عالمی میڈیا رپورٹس میں عیاں کیا گیا کہ پاکستانی حمایت یافتہ طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مزاکرات کے دوران طالبان کی طرف سے یہ شرط رکھا گیا کہ امریکی انخلاہ کے بعد پاکستان کی قبضہ گیریت کے خلاف بلوچوں کو کسی صورت افغانستان میں پناہ نہ دی جائے۔ پاکستان جو بلوچستان پر جبر اًقابض ہے اور طالبان جوپاکستان کی مدد سے تین ہزار سے زائد امریکی اوراس کے اتحادی افواج کی ہلاکت کا ذمہ دار ہے دونوں بلوچ قومی تحریک کے خلاف اس لیے ایک صفحے پرہیں کہ بلوچ تحریک آزادی طالبان اور دہشتگرد ریاست پاکستان کی ضد ہے۔ لیکن اس حقیقت کو جاننے کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان اور طالبان کے دھوکے میں آکر وہی قانون جو طالبان سمیت دوسرے اسلامی دہشت گرد تنظیموں کو شکست دینے کے لیے لایاگیا اس قانون کو امریکہ کے دشمنوں ، طالبان، پاکستان، چین اور ایران نے بلوچ قوم اور بلوچ قومی تحریک کے خلاف استعمال کروایا حالانکہ بلوچ تحریک سے امریکی عوام، ریاست اور مفادات کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔بی ایل اے کو اس لسٹ میں شامل کرنے کے لیے جن حملوں کو جواز کے طور پر استعمال کیا گیا ان حملوں سے بھی بی ایل اے کا کوئی تعلق نہیںہے۔آزاد بلوچ نے کہا کہ بی ایل اے کے ہائی کمان نے 2 دسمبر 2017 کوایک بیان کے ذریعے تنظیمی پالیسی اور فیصلوںکو بلوچ قوم اور دنیا کے سامنے رکھا۔ اسلم بلوچ اور بشیر زیب کو تنظیم کے خلاف شازش کرنے پر معطل کیا گیا اور ترجمان میرک بلوچ اور جئیند بلوچ کو مکمل ختم کرکے آزاد بلوچ کو بی ایل اے کا واحد ترجمان رکھاگیا۔بیان میں بی ایل اے کی ہائی کمان نے یہ بھی واضح کیا تھاکہ ان دونوں معطل شدہ کمانڈروں نے ایران اور بلوچ تحریک میں موجود اسکی حمایت ےافتہ گروہوں کے ایما ءپر تنظیم کو ایرانی پراکسی بنانے کی ناکام کوشش کی جو کہ بی ایل اے کی بنیادی اساس کے برخلاف ہے کیونکہ بی ایل اے ایران اور پاکستان دونوں کو قبضہ گیر اور بلوچ قوم کا دشمن سمجھتی ہے۔

آزاد بلوچ نے کہا کہ ہائی کمان کی طرف سے بیان میں یہ بھی وضاحت دی گئی تھی کہ بی ایل ایف کی جانب سے صحافیوں کو نشانہ بنانے کی پالیسی کی حمایت معطل ارکان اسلم بلوچ اور بشیرزیب کی طرف سے بی ایل اے کا نام استعمال کرتے ہوئے گی گئی تھی ۔ اسلم اور بشیرزیب کی طرف سے بی ایل ایف کی صحافی مخالف پالیسی کی حمایت کی مخالفت کی گئی اور واضح الفاظ میں کہا گیا کہ بی ایل اے اور بی ایل ایف کے درمیان پالیسی اختلافات کی وجہ سے کسی قسم کا اشتراک عمل یا اتحاد ممکن نہیں ہوسکا۔ آزاد بلوچ نے کہا کہ میڈیا میں بیانات کے ذریعے کئی دفعہ اسلم اور بشیرزیب کی معطلی اور ان کی جوابدہی کے معاملے پر بلوچ قوم اور دنیا کو آگاہ کرنے کے باوجود بی ایل ایف نے اسلم اور بشیرزیب جیسے قانون شکن ارکان کی مدد اور کمک کے علاوہ براس نامی اتحاد کے ذریعے ان کے تحریک مخالف رویوں کی حوصلہ افزائی کی جس کے تحریکی حوالے سے منفی اثرات آج ہمارے سامنے ہیں ۔ براس نامی اتحاد کا بی ایل اے حصہ نہیں اور اس اتحاد میں بی ایل ایف نے دو معطل شدہ ارکان سے اتحاد کی ہوگئی مگر ایسے کسی اتحاد میں بی ایل اے نہ شامل تھی اور نہ آج شامل ہے ۔

آزاد بلوچ نے کہا کہ امریکی حکومت کی طرف سے جن کاروائیوں کوبی ایل اے کیخلاف جواز کے طور پر پیش کیا گےا ان میں چائینیز انجینئرز پر اگست 2018 ،چینی قونصل خانہ کراچی نومبر 2018،اور گوادر پی سی ہوٹل مئی 2019 کے حملے شامل ہیں۔ ان حملوں کو معطل کردہ ارکان نے ختم شدہ ترجمان جئیند بلوچ کے نام سے قبول کیا تھا لیکن یہ ترجمان بی ایل اے کے ہائی کمان کی طرف سے دسمبر 2017 کے بیان کے ذریعے مکمل طور پر ختم کردیا گیا تھا اس کے ساتھ ساتھ اگست 2018 کے حملے سے بی ایل اے نے بیان کے ذریعے لاتعلقی ظاہر کی تھی ۔ ان تمام حملوں میں ان معطل شدہ ارکان کو ایران کے طرف سے مدد دی گئی اور ایران کا بھی یہ مقصد رہا ہے کہ بلوچ قومی تحریک کو دنیا کی نظروں میں دشت گرد قرار دیا جائے کیونکہ بلوچ قومی تحریک ایران اور پاکستان دونوں ریاستوں کی وجود کے لیے ایک خطرہ ہے اسی لیے آپسی اختلافات کے باوجود ایران اور پاکستان دونوں قابض ریاستیں بلوچستان کی آزادی کی تحریک کو ختم کرنے پر متفق اور ہم آہنگ ہیں ۔

آزاد بلوچ نے کہا کہ جو حملے واضاحتی بیانات کے بعد بی ایل اے کے حقیقی ترجمان آزاد بلوچ کے بجائے کسی بھی نام سے قبول کیئے گئے تھے یا مستقبل میں کیئے جائیں گے ان کا بلوچ لبریشن آرمی سے کوئی تعلق نہیں۔ بلوچ تحریک کے خلاف ایران ، پاکستان اور چین جیسی ریاستیں شازشیں کررہی ہیں اور بد قسمتی سے بلوچ تحریک میں شامل کچھ عناصر آزادی کے نام پر دانستہ یا نا دانستہ طور پر انہی عزائم کی تکمیل کررہے ہیں جس کا مقصد بلوچ تحریک کو عالمی سطح پر ایک قومی ریاست کی تشکیل کی تحریک کے بجائے دہشتگردتحریک قرار دلوانا ہے۔ امریکہ کی موجودہ سرکار کو یہ بات سمجھنا ہوگا کہ بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا بلوچ قوم کی جائز اور قانونی جدوجہد آزادی کود ہشت گردقرار دینے کے مترادف ہے۔ بلوچ قوم نے برطانوی سامراج کی قبضہ گیریت کے خلاف جدوجہد کی اور وہ ایرانی اور پاکستانی قبضہ گیریت کے خلاف آج جدوجہد کررہی ہے یہ جدوجہد نہ امریکہ کے کہنے پر شروع کی گئی تھی اورنہ ہی امریکہ کی طرف سے بلوچ تنظیموں کو دہشت گرد قرار دینے سے بلوچ قومی جدوجہد کو روکاجاسکتا ہے ۔ بلوچ قومی تحریک نہ ایک تنظیم کا نام ہے نہ ہی یہ تحریک ایک تنظیم تک محدود ہے یہ مزاحمت بلوچ کی قومی مزاحمت ہے جو بلوچ سرزمین پر ایرانی اور پاکستانی قبضے کے خاتمے تک جاری رہے گی۔

بی ایل اے ترجمان آزادبلوچ نے بیان کے ذریعے بلوچ قوم اور بلوچ نوجوانوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ ذاتی نمود و نمائش اور تنظیمی ڈسپلن سے نکل کر عالمی سیاست، جنگی قوانین اور دشمن کے چالوں کو نہ سمجھنے کے اثرات آج بلوچ قوم کے سامنے ہیں کہ کس طرح دو معطل شدہ کمانڈروں نے بلوچ تحریک آزادی کو عالمی سطح پر نقصانات سے دوچار کیا اور دشمنوں کو اپنی غلط پالیسیوں سے یہ جواز فراہم کیاکہ وہ بلوچ تحریک آزادی کو بد نام کرسکیں۔ آزادبلوچ نے کہا کہ جن بلوچ نوجوانوں کو چینی کونسل خانہ اور گوادر پی سی ہوٹل جیسے حملو ں کے لیے دو معطل شدہ کمانڈروں کی طرف سے بھیجا گیا ان نوجوانوں نے جزبہ آزادی اور وطن دوستی کے تحت ان حملوں میں حصہ لیا لیکن شہیدوں کی قربانی نے آزادی کی جدوجہد کی آبیاری کرنے کے بجائے ان قانون شکن ارکان کے ہاتھوں استعمال ہوکر بلوچ جدوجہد کو نقصان پہنچایااور تحریک کو عالمی سطح پر کمزور کیا ۔ آزادبلوچ نے بشیر زیب کی طرف سے میڈیا میں اپنی خود نمائی کو سستی شہرت اور نمودونمائش قرار دیتے ہو ئے کہا کہ بی ایل اے ایک گوریلہ تنظیم ہے جس نے کبھی بھی اپنی تنظیمی لیڈرشپ ،کمانڈروں اورارکان کو ظاہر نہیں کیا ۔ آزاد بلوچ نے بیان کے آخر میں کہا کہ اس بیان کے ذریعے معطل شدہ بشیرزیب کی بنیادی رکنیت تنظیم کی طرف سے مکمل طور پر ختم کردی جاتی ہے۔

Leave a comment

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

Create your website at WordPress.com
Get started
%d bloggers like this: